قبائلی اضلاع میں ترقی کی اصل کسوٹی عوام کو ملنے والی سہولت ہے

 قبائلی اضلاع کے بارے میں منصوبوں اور وعدوں کی خبریں اکثر نمایاں ہوتی ہیں، مگر عام شہری ایک سادہ سوال پوچھتا ہے: کیا مجھے علاج، تعلیم، صاف پانی اور محفوظ راستہ ملا؟ ترقی کا جواب اسی روزمرہ تجربے میں پوشیدہ ہے۔

 

کسی سڑک کے اعلان سے زیادہ اہم اس کی تکمیل اور دیکھ بھال ہے۔ ہسپتال کی عمارت کے ساتھ عملہ، ادویات اور آلات 

بھی ہوں تو مریض کو فائدہ پہنچتا ہے۔ اسکول کھلا ہو، استاد موجود ہو اور بچوں کا وہاں پہنچنا ممکن ہو تو تعلیم کا وعدہ حقیقت بنتا ہے۔

ترقیاتی فیصلوں میں مقامی آبادی کو سننا چاہیے، منصوبوں کی مدت اور خرچ عام کرنا چاہیے، اور تکمیل کے بعد سہولت کی کارکردگی جانچنی چاہیے۔ یہی پیمانہ حکومت، منتخب نمائندوں اور انتظامیہ کو جوابدہ بناتا ہے۔ قبائلی اضلاع کے لیے بہتر مستقبل کی بحث اعلانات سے آگے بڑھ کر خدمات کی مسلسل فراہمی تک پہنچنی چاہیے۔

نوٹ: یہ ادارتی رائے ہے، کسی نئی سرکاری اسکیم یا فیصلے کی خبر نہیں۔

تبصرہ کریں

Comments

Popular posts from this blog

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی، نئے نرخ نافذ

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جائزہ مذاکرات شروع، وزیرِ خزانہ کی وفد سے ملاقات