خبر شیئر کرنے سے پہلے ایک منٹ کیوں ضروری ہے؟
موبائل پر کوئی چونکا دینے والا پیغام آتے ہی اسے آگے بھیج دینا آسان ہے۔
مشکل کام یہ ہے کہ ایک منٹ رک کر پوچھا جائے: یہ بات کس نے کہی، کب کہی اور کیا اصل خبر کا لنک موجود ہے؟ یہی مختصر وقفہ افواہ اور اطلاع میں فرق پیدا کر سکتا ہے۔
پرانا ویڈیو کلپ نئے واقعے کے نام پر پھیل سکتا ہے۔ تصویر کسی دوسرے ملک کی ہو سکتی ہے، جبکہ اس کے ساتھ لکھا متن مقامی واقعے کا تاثر دے رہا ہو۔ اس لیے تاریخ، مقام اور اصل ماخذ دیکھنا ایک اچھی عادت ہے۔ اگر خبر حساس ہو تو کم از کم دو معتبر ذرائع سے اس کی تصدیق کریں۔
خبر رسانی صرف صحافی کی ذمہ داری نہیں رہی۔ ہم سب جو کچھ اپنے دوستوں اور خاندان تک پہنچاتے ہیں، وہ کسی کے خوف، امید یا فیصلے پر اثر ڈال سکتا ہے۔ شیئر کرنے سے پہلے ایک منٹ لگانا وقت کا ضیاع نہیں؛ ذمہ داری کا ثبوت ہے۔
نوٹ: یہ عمومی بلاگ ہے، کسی مخصوص واقعے کی رپورٹ نہیں۔
Comments
Post a Comment